Tuesday, 31 January 2017

بالاڪوٽ، آصف ثاقب، Balakot

بالاکوٹ

مرے اے شہرِ بالاکوٹ پیارے

تری میٹھی ہوا کے گھونٹ لے کر

مرے دل میں محبت جاگتی تھی

شہیدوں کی ہے خوشبو تیرے اندر

مرے پندار میں بھی موجزن ہے

ترے دیوار و در کا فخر اس پر

زمانے میں نمایاں ہو گیا تھا

مرے یاروں نے اس کو شعر کر کے

کتابوں کا اجالا کر دیا تھا

غضب کا زلزلہ آیا کدھر سے

پڑے تھے ڈھیر ملبوں کے زمیں پر

مرے اے شہرِ بالاکوٹ پیارے

تجھے جھٹکے نے کیا جھٹکا دیا تھا

ہلا کر رکھ دئیے بربادیوں نے

مکان و کوچہ و بازار تیرے

غبار و گرد کا طوفاں تھا ایسا

نظارا شہر کا اندھا ہوا تھا

مری آنکھیں بھی اندھی ہو گئی تھیں


آصف ثاقب